Interview Musrat Talpur




مسرت ٹالپر
 (2 k15/mc/65)

 2nd semester BS-III

 انٹرویو راول میمن



تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے بہت کم لوگ ہوتے جو سماج میں ایک شناخت حاصل کر لیتے ہیں راول میمن کا تعلق بھی انہی لوگوں میں شامل ہوتا ہے ،راول میمن پچھلے پانچھ سالوں سے مختلف تنظیموں کا حصہ رہے ہیں اور ان میں ایک رہنما کی حیثیت سے کام کر ہیں۔راول میمن کا تعلق بدین شہر سے ہے اپنی ابتدائی تعلیم بھی بدین سے حاصل کی او رباقی تعلیم انہوں نے حیدرآباد سے لی،2017میں مہران یونیورسٹی سے Institute of Patrolium and Natural Gas میں
گریجیوشن مکمل کی ۔
س :آپ کا پہلا سوشل ایوینٹ کون سا تھا اور اس میں آپ کس حیثیت سے کام کر رہے تھے ؟
  ج: میرا پہلا ایوینٹ The awakeners
کے نام سے تھا جو میں نے 2013میں کیا جس میں ایک صدر کی حیثیت سے کام کیا۔
س:آپ اس کے بعد کون کون سے ایوینٹ میں حصہ لیتے رہے ہیں؟
ج:اس کے بعد میں نے PakistanYouth Councilمیں حصہ لیا جس میں میں Youth chamber کا صدر تھا ، بعدمیں اگر MUN(Model United Nation)کی طرف آئیں تو Aug-2014میں حیدرآبادMUN میں ایک Organising Council Memberکی حیثیت سے تھا ،میں مہران ایوینٹ سوسائٹی کا بھی میمبر رہا ہوں اور2015میں MUET-MUN میں ایک Registrer Directorکی حیثیت سے کام کیا ۔

س:آپ کس طرح کا مزاج رکھتے ہیں؟
ج:مزاج کا اب مجھے اتنا یاد تو نہیں کہ کس طرح کا تھا پر آج کل جس طرح میں سوشل ایکٹیوٹیز میں ہوں اس سے یہ لگتا ہے کہ مزاج میرا اچھا تھا دوسروں کے لیے سوچتا ہوں اور سوشل ورک میں بھی زیادہ ویلفر کی طرف ہوتا ہوں۔

س:آپ کا سماجی حلقہ بڑہنے میں آ پ کے گھر والوں کا کتنا سپورٹ ہے؟
ج:میرے گھر والوں کا مجھے بہت سپورٹ ہے ،اگر میں بدین میں کچھ اچھا کام کرانے کا کہتا ہوں تو میرے بابا مجھے ہمیشہ سپورٹ کرتے ہیں اور امی چپ رہتی ہیں کیوں کے و ہ چاہتی تھیں کے میں پڑاھائی میں زیادہ توجہ دوں،مگر وہ مجھے روکتی بھی نہیں تھیں ،اگر ایک طرح سے دیکھا جائے تو ان کی خاموشی بھی میرے لیے سپورٹ کا کام کر رہی تھی ۔
س:آپ نے آپ کے شہر بدین میں MUNکروایا اس کا خیال آپ کو کیسے آیا اور آپ کا بدین میں MUNکروانے کا مقصد کیا تھا ؟
ج:جب میں MUNمیں داخل ہوا تو پھر میرا اس سے کافی واستہ ہوگیا ،پھر چاہے وہ MUN کسی بھی شہر میں ہو میں اس میں شامل رہا اسی دوران میں نے محسوس کیا کے جب کراچی حیدرآباد کا نوجوان بول سکتے ہیں تو بدین کے اور نوجوان کیوں نہیں تب میں نے وہاں نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم دینے کا سوچا جس میں مجھے زیادہ مدد سر طفیل چانڈیو نے کی ،بدین میں MUNکروانے کی وجہ صرف یہ تھی کے وہاں کے نوجوانوں کو بہتری کی طرب لے جاناہے۔
س:بدین میں MUNکروانے کے بعد آپ کو وہاں کیا تبدیلیاں نظر آئیں؟
ج:تبدیلی یہ نظر آئی کہ ایک بدین ہی کا بچہ تھا جس نے مجھے کہا کے سر مجھے پتا تو ہے باتوں کا لیکن میں سب کے سامنے بولوں گا کیسے مجھے لوگوں کے سامنے بولنا نہیں آتا تو میں نے اس کو سمجھایااور اس سے کہا کے تم Badin-MUNمیں حصہ لو،اس کے بعد اس نے حصہ لیا اور Best Delegate کا اوارڈ جیتااور آج ماشااللہ وہ مجھ سے اچھامقرر ہے، ایک بچہ بھی اگر MUNکی وجہ سے سیکھ رہا ہے تو یہ ہماری کامیابی ہے۔
س:آپ کا سوشل حلقہ اتنا بڑا ہے اور آپ کی سوشل مصروفیات بھی اتنی زیادہ رہتی ہیں تو اس سب کی وجہ سے آپ اپنے گھروالوں اور دوستوں کو کس طرح وقت دے پاتے ہیں؟
ج:یہ میر ی خوش قسمتی ہے کہ جو میرے 80%دوست ہیں وہ میرے سوشل حلقہ میں ہی ہیں تو اس سے میری زندگی اتنی متاثر نہیں ہوتی ۔
س:سندھ میں خصوصی طور پر اگر حیدرآباد کی بات کی جائے تو یہاں سوشل ایوینٹ SUMMITاور MUN کا رجحان بڑ رہا ہے تو آپ آنے والے پانچ سالوں میں ان سب کو کہاں دیکھتے ہیں ان کا رجحان بڑھے گا یا اور کم ہوگا؟
ج:یہ ایک حقیقت ہے کے جو چیز زیادہ ہوتی جاتی ہے اس کا معیار بھی کم ہوتا جاتا ہے اب جس طرح سے MUN کو دیکھا جائے اگر ہم اندرونی سندھ کی بات کریں جس میں حیدرآباد اور جامشورو کو بھی شامل کیا جائے تو اگلے سال یہاں پر تقریباِِِ بیس MUN ہوئے تھے اس سال 8,9ہورہے ہیں تو ان سب کو دیکھ کر MUN کا مستقبل زیادہ اچھا نظر نہیں آتااور SUMMITکی بات کی جائے تو اس کا مستقبل کچھ اچھا نظر آتا ہے۔
س:سوشل اایوینٹ میں آنے کہ بعد آپ میں کیا تبدیلیاں آئیں ؟
ج:سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کے میں بولنا سیکھا ہوں کے کس طرح بات کرنی چاہیے کون سی بات کہاں کرنی چاہیے اور ان پانچ سالوں میں میرے کافی دوست بن چکے ہیں۔
س:آپ نوجوانوں کو سوشل ایوینٹ کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے؟
ج: میں نوجوانوں کوکہنا چاہتا ہوں کہ آپ سوشل ایوینٹ میں آئیں اس سے آپ کو حوصلہ افزائی ہوگی،مگر یہ کے ان سب کو اپنا جینے کا مقصد نہیں بنائیں اور جب آپ میں یہ صلاحیت ہو کے آپ دو ستوں اور گھر والوں کو وقت دے سکتے ہیں اور اپنی پڑاھائی پر توجہ دے سکتے ہیں تب ہے آپ سوشل ایوینٹ میں شامل ہوں۔

Musrat Talpur Interview with Rawal Memon

Comments

Popular posts from this blog

Yousuf Laghari Profile by Nimra

Aqeel Ahmed Soomro

TWO OLD GOVERNMENT SCHOOLS OF HYDERABAD CITY